11

’’عید سے پہلے پہلے یہ کام ہو جانا چاہیے۔۔۔‘‘مریم نواز کو نیب آفس سے جاتی امراء منتقل کر کے ۔۔۔۔۔۔۔بڑا قدم اُٹھالیاگیا


لاہور(ویب ڈیسک) چوہدری شوگر ملز مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کو نیب ہیڈ کوارٹر سے جاتی امراء منتقل کر کے سب جیل قرار دینے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کر ادی گئی۔ رکن اسمبلی سمیرا کومل کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد کے متن


میں کہا گیا ہے کہ نیب ہیڈ کوارٹر میں خواتین کے لیے کوئی جگہ نہیں،ڈے کیئر سینٹر صرف نیب آفس میں کام کرنے والی خواتین اور ان کے بچوں کیلئے مختص ہے اس کے علاوہ یہاں پر اور کوئی بھی نہیں رک سکتا ۔ نیب لاہور آفس میں تفتیش کیلئے کوئی ایک خاتونافسر بھی موجود نہیں ہے۔مطالبہ ہے کہ مریم نواز کو نیب ہیڈ کوارٹر سے ان کی رہائشگاہ جاتی امراء منتقل کر کے اسے سب جیل قراردیا جائے۔مردوں کیلئے مخصوص جگہ پر مریم نواز سے تفتیش کرنا غیر قانونی ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق شریف فیملی کے لیے منی لانڈرنگ کرنے کے الزام میں گرفتارملزمان نے اعتراف کیاہے کہ انہوں نے شریف خاندان کو 24ٹی ٹیاں بھیجیں ۔جوڈیشل مجسٹریٹ ذوالفقار باری کی عدالت میں ملزمان شاہد رفیق اور آفتاب محمود نے بیان ریکارڈ کرائے،دونوں کے بیانات کا متن سامنے آگیا ہے اور اس پر حکومت نے غوروفکر شروع کر دی ہے۔ملزم شاہد رفیق نے کہاکہ تسلیم کرتا ہوں کہ ٹی تیز کا اہتمام کزن آفتاب محمود کے ذریعے کیا ،میں نے شریف فیملی کے چار افراد کےلئے منی لانڈرنگ میں سہولت کار کا کردار ادا کیا۔شاہد رفیق نے اعتراف کیا کہ 2008-09 میں 24 لاکھ 30 ہزار ڈالرز سے زائد کی ٹی ٹیز، حمزہ شہباز، سلمان شہباز، نصرت شہباز اور رابعہ عمران کے نام پر کی گئیں۔ملزم نے مزید کہاکہ اب تک شریف فیملی کے نام پر 24 ٹی ٹیز بھجواچکا ہوں ،ٹی ٹیز کی رقم پاکستان میں دی جاتی تھی ،بھیجنے والے کا نام فرضی ہوتا تھا،اس کام کا مجھے کمیشن ملتا تھا۔









Source link