8

مقبوضہ وادی میں نہتے کشمیریوں پر مظالم، پاکستانی سیاست دانوں کی شدید مذمت –


اسلام آباد: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے مظالم میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے، نہتے کشمیریوں نے بھارتی قبضے کے خلاف سخت احتجاج شروع کر دیا ہے، جس پر بھارتی فورسز نے گولیاں چلا دیں۔

ادھر پاکستان میں حکومتی اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں نے متفقہ طور پر نہتے کشمیریوں پر مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ مودی نئے دور کا ہٹلر ہے، کشمیر پر حملہ پاکستان پر حملے کے مترادف ہے، بھارت کشمیر کا جغرافیہ بدلنا چاہ رہا ہے، کشمیری اپنے حق کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کشمیر کو گھیرے میں لے کر جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے، بھارت کشمیریوں کے حق کی آواز طاقت سے دبانا چاہتا ہے، لیکن یہ کرفیو زیادہ دیر نہیں چل سکے گا، مقبوضہ وادی لہو لہو ہے، آزادی کی تحریک ضرور کام یاب ہوگی۔

تازہ ترین خبریں پڑھیں:  یوم آزادی پر کشمیر سے منسوب لوگو تیار، کشمیری جھنڈے کی طلب بھی بڑھ گئی

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بھی کشمیریوں پر مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری کرفیو میں بھی نکل آئے ہیں، ابھی تھوڑا صبر کریں بہت کچھ ہونے والا ہے، مودی سرکار کے آخری دن شروع ہو گئے ہیں، کشمیریوں کی جدوجہد مزید تیز ہوگی۔

وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید کہتے ہیں آج کشمیر کا بچہ بچہ بھارتی فوج کے لیے برہان وانی بن گیا ہے، کشمیری کرفیو میں بھی نکل کر کہہ رہے ہیں ہم چاہتے ہیں آزادی، مودی کا اصل چہرہ نئے دور کے ہٹلر کے طور پر سامنے آ گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے لوگوں پر فائرنگ کی گئی، ان کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی، برہان وانی کی شہادت کے بعد تحریک آزادی مزید بڑھی، کشمیری کہتے ہیں ہم نے بھارتی آئین کو تو کبھی تسلیم ہی نہیں کیا تھا، بھارت نے خود اپنی بربادی کا آغاز کر دیا، انشاء اللہ کشمیر آزاد ہوگا۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینئر رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو جیل بنا دیا ہے، مودی سرکار کو منہ کی کھانا پڑے گی، بڑے دکھ کی بات ہے عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں یہ سب ہونے دے رہی ہے، مقبوضہ کشمیر کی کہانی بھارت کسی صورت نہیں دبا سکتا، بھارت غیر قانونی اقدام سے کچھ حاصل نہیں کر سکے گا۔

Comments

comments





Source link