11

’’ جنوبی ایشیا کا ہٹلر۔۔۔‘‘ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی مسلمانوں کی نسل کُشی کے لیے کیا حربے استعمال کرنے جا رہا ہے؟ ایک اور خوفناک منصوبہ بے نقاب ہوگیا


لاہور(نیوز ڈیسک ) بھارت میں ہندوانتہاپسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس )کے تربیت یافتہ پیروکاربھارتی وزیراعظم نریندرمودی جنوبی ایشیاء میں نازی ایڈولف ہٹلرکا ”پارٹ ٹو“ ہیں،مودی کے نزدیک دنیا میں ہندوؤں اور ہٹلرکے نزدیک دنیا میں صرف جرمن قوم اورمودی کے کے قریب ہندوؤں کو جینے کا حق


ہے،باقی اقوام کمتراور غلام ہیں۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرکے وہاں انتہاپسند تنظیم آر ایس ایس کے لوگوں کو آبادکرنے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔دوسرے الفاظ میں وادی کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی کی جائے اور ان ہندوؤں کو آباد کرکے کشمیریوں کو اقلیت کا درجہ دے دیا جائے گا، ایک رپورٹ کے مطابق مودی سرکار ایسا عمل صرف کشمیر میں مسلم اکثریتی علاقوں میں کرنے جارہی ہے۔اسی طرح مودی نے 2002ء میں گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کروایا۔آر ایس ایس کا نظریہ ہے کہ ہندوتواکے تحت ہندوستان میں صرف ہندوؤں کیلئے ساری مراعات ہیں۔جبکہ مسلمانوں اور دلیتوں کو بالکل جینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ جبکہ مسلمان اوردوسری اقوام ہندوؤں کی غلا م ہیں۔ اسی نظریے کو لیکر مودی سرکار نے گجرات میں مسلمانوں کو قتل عام کیا ،حاملہ خواتین کے پیٹ میں خنجرگھونپے گئے،لوگوں کو زندہ جلایا گیا، لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دی گئی،جس پر 2005ء میں مودی پر بیرون ممالک پابندی کا سامنا کرنا پڑا، امریکا نے بھی مودی کو ویزہ دینے دے انکار کردیا تھا۔بالکل یہی نظریہ جرمن ڈکٹیٹرایڈولف ہٹلر کا تھا،ہٹلر بھی جرمنی میں جرمن قوم کے سوا کسی کو برداشت نہیں کرتا تھا۔ ہٹلر اور مودی میں ایک قدر یہ بھی مشترک ہے کہ دونوں نے اپنے فائدے کیلئے تصادم کروایا اور انتشار پھیلایا جبکہ اپنے سپاہیوں کو تک کو مروانا اور قتل کروانا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ہٹلر کی متشدد نظریات کو دیکھ کراندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہٹلر 1930یا 45ء کا قصائی تھا جبکہ مودی موجودہ دور کا قصائی اور قاتل ہے۔









Source link