139

سانحہ ساہیوال متاثرین نے جے آئی ٹی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردی


جے آئی ٹی کو کالعدم قرار دینے اور جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست فوٹو:فائل

جے آئی ٹی کو کالعدم قرار دینے اور جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست فوٹو:فائل

 لاہور: سانحہ ساہیوال میں جاں بحق افراد کے لواحقین اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف درج دہشت گردی و قتل کیس کے مدعی نے واقعے کی جے آئی ٹی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

سانحہ میں جاں بحق خلیل کے بھائی جلیل نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی بنائی گئی جے آئی ٹی کو کالعدم قرار دیا جائے۔ درخواست گزار نے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی۔

جلیل نے اپنی درخواست میں وفاقی حکومت، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب پولیس امجد جاوید سلیمی کو فریق بنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ ساہیوال متاثرین نے جے آئی ٹی مسترد کردی، جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ

علاوہ ازیں ساہیوال واقعے میں گرفتار سی ٹی ڈی اہلکار دوران تفتیش گاڑی پر فائرنگ سے مکرگئے اور جے آئی ٹی کو بیان میں کہا کہ کار پر فائرنگ ہم نے نہیں کی۔

زرائع کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سی ٹی ڈی کے گرفتار اہلکاروں صفدر، رمضان، سیف اللہ اور حسنین سے تفتیش کی۔ جے آئی ٹی نے گرفتار اہلکاروں سے سوال کیا کہ گاڑی پر فائرنگ کس نے کی؟ جس پر سی ٹی ڈی اہلکاروں نے پہلے فائرنگ سے انکار کردیا۔

سی ٹی ڈی اہلکاروں کے فائرنگ سے انکار پر جے آئی ٹی نے ملزمان سے پوچھا کہ پھر کار میں سوار افراد کیسے ہلاک ہوئے؟ ملزمان نے بتایا کہ موٹرسائیکل سوار ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔

زرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے ملزمان سے سوال کیا کہ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا تھا؟ اس پر بھی ملزمان نے فائرنگ میں پہل کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ ہمیں کسی نے حکم نہیں دیا، صرف جوابی فائرنگ کی تھی۔

19 جنوری کی دوپہر سی ٹی ڈی نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک کار پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اس میں سوار 4 افراد جاں بحق اور تین بچے زخمی ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب سے متضاد بیانات دیے گئے۔ اب جے آئی ٹیم کو سی ٹی ڈی اہکاروں کی جانب سے دیئے گئے بیانات سے تفتیش کو نیا رنگ دیکر نہ صرف افسران کی کوتاہیوں کو چھاپا جا رہا ہے بلکہ سی ٹی ڈی اہلکار قتلوں کی ذمہ داری خود بھی قبول نہیں کر رہے۔





Source link