34

نگلیریا کا جرثومہ 21 سالہ نوجوان کا دماغ چاٹ گیا


ٹینکوں کوسال میں کم ازکم دوبار صاف کیا جائے،پانی میں کلورین کی گولیوں کا استعمال کیا جائے،ڈاکٹر صدف اکبر۔ فوٹو؛ فائل

ٹینکوں کوسال میں کم ازکم دوبار صاف کیا جائے،پانی میں کلورین کی گولیوں کا استعمال کیا جائے،ڈاکٹر صدف اکبر۔ فوٹو؛ فائل

کراچی: جناح اسپتال میں نگلیریاسے متاثرہ طالب علم زندگی کی بازی ہار گیا۔

جناح اسپتال میں دو دن سے زیر علاج نگلیریا میں مبتلا21 سالہ انس اورنگی ٹاؤن کا رہائشی تھا جو دم توڑ گیا، جناح اسپتال کی ایگزیکٹوو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق انس کو تیز بخار میں18اپریل کو جناح اسپتال لایا گیا تھا، اسپتال میں لیے گئے طبی ٹیسٹ میں نگلیریا کی تصدیق ہوئی تھی، رواں سال نگلیریا کی یہ پہلی ہلاکت ہے۔

دادا بھائی انسٹیٹیوٹ میں مائیکروبائیولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر صدف اکبر کا ایکسپریس نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نگلیریا امیبا ہے جو اگر ناک کے ذریعے دماغ میں داخل ہوجائے تو دماغ کو پوری طرح متاثر کر دیتا ہے جس سے انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

نگلیریالاعلاج مرض ہے جس سے صرف احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق پانی میں کلورین کا استعمال کرنے سے بچا جاسکتا ہے،نگلیریا خطرناک مرض ہے،گرمیوں میں نگلیریا کے کیسز میں اضافہ ہوجاتا ہے،کیونکہ یہ گرم پانی میں تیزی سے پرورش پاتا ہے، نگلیریا سوئمنگ پول، تالاب اور ٹینکوں میں موجود ایسے پانی میں پیداہوتاہے جس میں کلورین کی مقدار کم ہوتی ہے،سرمیں تیز درد ہونا، الٹیاں اور بخار اس کی علامات ہوتی ہیں جو ایک ہفتے میں واضح ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔

نگلیریا سے بچاؤ کا طریقہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق پانی میں کلورین کے استعمال سے نگلیریا وائرس کو پیدا ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔

احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ گھروں میں موجود ٹینکوں کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے،ٹینکوں کو سال میں کم از کم دو بار صاف کیا جائے،پانی میں کلورین کی گولیوں کا استعمال کیا جائے،وضو اور پینے کے پانی کو ابال کر استعمال کرنے سے اس بیماری سے بچا جاسکتا ہے۔

 





Source link

کیٹاگری میں : صحت