35

60 فیصد پاکستانی ملکی کی سماجی و اقتصادی صورتحال سے غیر مطمئن ہیں، سروے رپورٹ


39 فیصد افراد نے افراط زر، 15 فیصد نے بے روزگاری اور 18فیصد نے غربت کو اہم مسئلہ قرار دیا، سروے۔ فوٹو:فائل

39 فیصد افراد نے افراط زر، 15 فیصد نے بے روزگاری اور 18فیصد نے غربت کو اہم مسئلہ قرار دیا، سروے۔ فوٹو:فائل

 اسلام آباد: انٹرنیشنل پبلک انسٹی ٹیوٹ نے پاکستان میں نئی حکومت کے حوالے سے تازہ سروے جاری کردیا کے مطابق ملک کی کمزور معیشت پاکستانیوں کے لئے فکر مندی کا باعث ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق  انٹرنیشنل پبلک انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے پاکستان کی نئی حکومت کے حوالے سے سروے جاری کردیا گیا ہے، یکم نومبر سے 22 نومبر تک کئے گئے سروے میں 18سال سے زائد عمر کے 3 ہزار 991 افراد کی رائے لی گئی۔

سروے رپورٹ کے مطابق جولائی 2018کے انتخابات کو اکثریت نے منصفانہ قرار دیا، 84 فیصد اکثریت نے انتخابی نتائج پربالکل درست، 46 نے صرف درست قرار دیا، مجموعی طور پر83 فیصد افراد نے انتخابات کو مکمل طور پر آزاد انہ و منصفانہ جب کہ 50 فیصد نے آزاد اور منصفانہ قرار دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بہترین جمہوریت کے حامی 16 فیصد، اچھی ہے 43 فیصد، درست نہیں 6 فیصد اور زیادہ درست نہیں 32 فیصد کی رائے ہے، اب تک مجموعی طور پر56 فیصد افراد نے حکومت پر اعتماد کا اظہارکیا، 57 فیصد لوگوں کا خیال ہے وزیراعظم بہت اچھا جارہے ہیں، 17 فیصد اچھا اور 40 کہتے ہیں اب تک ٹھیک ہیں، پاکستانی عوام حکومت کو الیکشن میں کئے گے وعدوں پرعمل کے لئے وقت دینے کی حامی ہے، 40 فیصد نے وعدے پورے کرنے کے لئے ایک سال جب کہ 26 فیصد نے حکومت کو 2 سال دینے کی حمایت کی ہے۔

ریجنل ڈائریکٹر ایشیاء آئی آر آئی جوہانہ کاؤ کے مطابق ملک کی کمزور معیشت پاکستانیوں کے لئے فکر مندی کا باعث ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عوام نے ملکی معیشت پر تشویش کا اظہار کیا ہے، 60 فیصد پاکستانی ملکی کی سماجی و اقتصادی صورتحال سے غیر مطمئن، 38 فیصد کا اظہارِاطمینان ہے، معیشت کو 9 فیصد نے درست سمت، 29 فیصد نے غلط اور38 نے لاعلمی کااظہار کیا، 39 فیصد کو امید ہے معیشت بہتر ہوگی، 37 فیصد غلط اور 18 فیصد لاعلم ہیں، 39 فیصد افراد نے افراط زر، 15 فیصد نے بے روزگاری اور 18فیصد نے غربت کو اہم مسئلہ قرار دیا، اور 18 سے 35 سال کے77 فیصد افراد نے روزگار کی کمی کو بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی صورتحال کو17 فیصد نے درست، 39 فیصد نے غلط اور 29 فیصد نے لاعلمی کا اظہار کیا، جب کہ آئندہ سالوں کے لئے 43 فیصد نے سیکیورٹی صورتحال کی بہتری کی امید، 32 فیصد نے غلط اور 17 فیصد نے جواب نہیں دیا۔

نئے صوبوں کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 46 فیصد افراد نے نئے صوبوں کی حمایت 18 فیصد نے مخالفت اور 21 فیصد نے سخت مخالفت کی، 39 فیصد نے جنوبی پنجاب صوبہ کی حمایت، 26 فیصد نے مخالفت 28 فیصد نے سخت مخالفت کی ہے۔ 59 فیصد نے فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں شامل کرنے، 24 فیصد نے مخالفت اور 7 فیصد نے سخت مخالفت کی۔

رپورٹ کے مطابق 35 فیصد کا خیال ہے لوڈ شیڈنگ کی صورتحال بہتر ہوگی، 30 فیصد کے مطابق غلط اور25 فیصد لاجواب تھے، خواتین کے پاس عہدہ پر 12فیصد ، حضرات پر 57فیصد نے اعتماد کااظہار کیا،  پینے کے پانی کی فراہمی، 9 فیصد نے درست31 فیصد نے غلط اور29 فیصد نے لاعلمی کااظہار کیا۔





Source link