16

ہم ’زبردستی بیمہ‘ کرائے گئے متاثرین کو بلامعاوضہ انصاف فراہم کر رہے ہیں، رئیس الدین پراچہ


’وفاقی اور صوبائی سطح پر عمومی محتسب کے ساتھ مختلف شعبہ جات کے محتسب کے ادارے قائم ہیں، ان ہی میں سے ایک وفاقی انشورنس محتسب بھی ہے، جو پورے پاکستان میں ’بیمہ داروں‘ کی بیمہ اداروں سے پیدا ہونے والی شکایات کا زالہ کرتا ہے۔‘

پچھلے ہفتے ہم ’وفاقی انشورنس محتسب‘ رئیس الدین پراچہ کے دفتر میں موجود تھے، اُن کی یہ بات سن کر ہمارے ذہن میں ’بیمے‘ کے سرکاری ادارے ’اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان‘ کا نام ذہن میں آیا، انہوں نے بتایا کہ ’اسٹیٹ لائف‘ تاحال ’وفاقی انشورنس محتسب‘ کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ اس سے متعلق شکایات وفاقی محتسب میں کی جا سکتی ہیں۔

ہم نے کہا کہ وفاقی محتسب تو تمام سرکاری اداروں کے حوالے سے ہے؟
جس پر وہ بولے کہ اس بنیاد پر کہ اسٹیٹ لائف سرکاری ادارہ ہے، اسے وفاقی محتسب کے اختیار میں رکھا گیا ہے، لیکن اصولی طور پر اسے بھی ہمارے ہی پاس ہونا چاہیے، کیوں کہ جب ہم بیمے کے تمام اداروں سے متعلق شکایات سنتے ہیں، تو اسٹیٹ لائف سے متعلق شکایات بھی ہمیں ہی سننا چاہییں، اس حوالے سے ایک ایکٹ بن چکا ہے، جو ابھی پارلیمان میں جانا ہے، اس کے بعد ممکن ہے کہ ’اسٹیٹ لائف‘ بھی ہماری عمل داری میں آجائے، کیوں کہ ایسا نہ ہونے سے بہت نقصان ہو رہا ہے۔

آپ کے پاس زیادہ تر شکایات کس قسم کی آتی ہیں؟
ہمارے اس سوال پر رئیس الدین پراچہ کہتے ہیں کہ اِن شکایات میں تو بہت زیادہ تنوع ہے، لیکن اس میں 75 فی صد تک شکایات تو صرف ’بیمۂ زندگی‘ سے متعلق ہوتی ہیں، جب کہ دیگر شکایات میں گاڑیوں سے لے کر فصلوں اور مویشیوں اور کاروباری تنصیبات جیسے دکان گودام وغیرہ سمیت ہر قسم کی بیمے کی ہوتی ہیں۔

ہم نے رئیس الدین پراچہ سے ’بیمۂ زندگی‘ سے متعلق شکایات کی نوعیت کا استفسار کیا، تو وہ بولے کہ جیسے اپنی زندگی کا بیمہ لینے والے کے انتقال کے بعد ’بیمہ کمپنی‘ کو چاہیے کہ وہ روپیا ادا کرے، لیکن وہ ادا نہیں کر رہا۔ اُس کا موقف ہوتا ہے کہ بیمہ لینے والے نے اپنی بیماریاں پوشیدہ رکھیں اور کچھ ماہ یا ایک سال میں اس کا انتقال ہوگیا، تو وہ اعتراض لگا دیتے ہیں، لیکن اس کے لیے انہیں شواہد بھی پیش کرنے ہوتے ہیں کہ وہ کوئی ثبوت بھی دیں کہ پالیسی لینے سے قبل کوئی بیمہ دار اپنی بیماری کا علاج کرا رہا تھا اور اس سے آگاہ نہیں کیا۔ پھر بہت سی جگہوں پر کمپنیاں اس قانون کا غلط استعمال بھی کرتی ہیں، قانوناً اگر کوئی ’بیمہ دار‘ دو سال کے بعد زندگی ہار جائے، تو پھر اس بابت بیماری چھپانے کا کوئی عذر کار گر نہیں رہتا، اس لیے اگر کمپنی ’کلیم‘ Claim نہیں دیتی، تو یہ بالکل غلط بات ہے، کیوں کہ دو سال کی مدتب کے بعد کمپنی کے ایسے کسی اعتراض کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

’کیا بیمار اور صحت مند شخص کی زندگی کا بیمہ الگ الگ طرح ہوتا ہے؟‘ ان کے جواب سے ہمارے ذہن میں یہ سوال کوندا۔ جس پر انہوں نے بتایا کہ بیمار شخص کا ’پریمیم‘ ایک صحت مند فرد کے مقابلے میں چار گنا تک زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح کینسر، ہیپاٹائٹس اور ایڈز جیسے مہلک امراض میں بیمہ پالیسی نہیں دیتے، لیکن بہت سے لوگ بیماریاں چھپا کر پالیسی لے لیتے ہیں۔ ایسی صورت میں پھر کمپنی حق بہ جانب ہوتی ہے۔

حساس اور نازک پیشوں میں جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے مزدوروں اور کاری گروں کی زندگی کے بیمے کا ذکر آیا، تو انہوں نے بتایا کہ ’لیبر لاز‘ کے تحت ان کی ’گروپ انشورنس‘ لازمی ہے، اس پر عمل نہیں ہوتا، ہمار ی عمل داری بیمہ کرائے جانے کے بعد ہی شروع ہوتی ہے، بیمہ کرانا ’لیبر ڈیپارٹمنٹ‘ کی ذمہ داری ہے۔

رئیس الدین پراچہ نے انکشاف کیا کہ آج کل سب سے زیادہ لوگ Bancassurance (بینک اشورنس) سے متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ دراصل بیمہ کمپنیوں نے بینکوں کے اشتراک سے ایک پالیسی نکالی ہے، جس میں پالیسی تو بیمہ کمپنی دیتی ہے، اسے بیچنے کے لیے بینک ’سیل ایجنٹ‘ بن جاتا ہے۔ اس سے پہلے یہ ہوتا تھا کہ ’انشورنس ایجنٹ‘ پیچھے لگ جاتا تھا اور ہر صورت پالیسی بیچ کر جاتا تھا، لیکن گزشتہ دس، بارہ سال سے ’بینک اشورنس‘ کا طریقہ سامنے آیا ہے۔

جس میں بینک کا عملہ بیمہ کمپنی کی طرف سے یہ پالیسی اپنے کھاتے داروں کو بیچنے کے بدلے میں پچاس، ساٹھ فی صد کمیشن لیتا ہے، دونوں کو منافع ہوتا ہے، یہاں تک کوئی حرج نہیں، لیکن کچھ بینک جعل سازی، زبردستی یا بے وقوف بنا کر اپنے اکائونٹ ہولڈر کا بیمہ کرا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کا پیسہ بینک کی پروڈکٹ پر لگا رہے ہیں، یہ بالکل غلط ہے۔ کوئی اپنے کھاتے داروں کو یہ لالچ دیتا ہے کہ بینک میں تو آٹھ دس فی صد منافع ملے گا، ہم آپ کا پیسہ ایک ایسی اسکیم میں لگا رہے ہیں کہ منافع 20 فی صد تک ہوگا، کوئی رقم دگنی ہونے کا آسرا دیتا ہے، یہ سب طریقے سراسر غلط ہیں۔

ایسے معاملات میں صارف کو واضح طور پر یہ بتانا ضروری ہے کہ بینک صرف ’کمیشن ایجنٹ‘ کے طور پر کام کر رہا ہے، جو کہ نہیں بتایا جاتا۔ وہ دو تین سال ’پریمیم‘ بھرتے ہیں اور پھر جب یہ کہتے ہیں کہ ہمیں پیسہ واپس دو، تو ان کا جمع کیا ہوا روپیا آدھے سے بھی کم ہو جاتا ہے، کیوں کہ انشورنس میں پورے پیسے واپس نہیں ملتے، تاوقتے کہ دس سال تک نہ چلائیں۔ ہمارے پاس ملک بھر سے مختلف بینکوں کی ایسی شکایات آرہی ہیں کہ انہوں نے سبز باغ دکھا کر بیمہ پالیسی دے دی، ایک فارم پر دستخط کرا لیے اور پھر خود بہ خود انشورنس کے لیے اکائونٹ سے پیسے کٹتے رہتے ہیں۔ دو تین سال بعد جب وہ آدمی رقم نکلواتا ہے، تو حقیقت پتا چلتی ہے۔ ’بینک اشورنس‘ میں بینک کا عملہ اپنا کمیشن بنانے کے لیے بھی غلط بیانی کرتا ہے، کہیں بینک مینجر بھی جعل سازی میں ملوث ہو جاتا ہے۔

اس حوالے سے رئیس الدین پراچہ بتاتے ہیں کہ بہت سے ان پڑھ لوگ، کاشت کار، مزدور، چپراسی، یا بیوائیں وغیرہ جب بینک میں اکائونٹ کھلوانے جاتے ہیں، تو اِن سے اکائونٹ کے کاغذات کے ساتھ ساتھ ’بیمے‘ کے فارم پر بھی دستخط کرا لیے جاتے ہیں۔ اسے پتا ہی نہیں ہوتا، کہ اس کے سارے 10، 20 لاکھ روپے انشورنس میں لگ گئے۔ جب اس پر انکشاف ہوتا ہے، تو وہ انکار کرتے ہیں، انہیں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے تو فارم پر دستخط کیے ہیں، پھر ایسے متاثرین دادرسی کے لیے ہمارے پاس آتے ہیں۔

لیکن لوگوں کو ’وفاقی انشورنس محتسب ‘ اس فورم کا علم نہیں، جس کی وجہ سے 50 ہزار میں سے فقط 500 شکایت کنندہ ہی رجوع کرتے ہیں۔ ’بینک اشورنس‘ کی شکایات کا سدباب کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو تجاویز دیتے رہتے ہیں۔ قانونی طور پر انشورنس کے لیے بینک اپنا نام یا ’لوگو‘ نہیں لگا سکتا، یہ اسٹیٹ بینک کی ہدایت ہے۔

رئیس الدین پراچہ نے انکشاف کیا کہ اس طرح کے دھوکے کے سبب بہت سے لوگوں کی طلاقیں تک ہوئی ہیں، کہ شوہر بیرون ملک سے روپیا بھیج رہا ہے، جب یہاں آیا تو پتا چلا کہ اس کی ساری کمائی تو انشورنس کی نذر ہوگئی ہے، جس پر برہم ہوکر اس نے رشتہ ختم کر دیا۔

وفاقی انشورنس محتسب میں شکایت درج کرانے کے طریقۂ کار کے حوالے سے رئیس الدین پراچہ نے بتایا کہ ایک سادے کاغذ پر اپنا پالیسی نمبر کے ساتھ درخواست لکھی جا سکتی ہے، جس کے بعد ہمارے ہاں شکایت درج ہو جائے گی اور پھر ہم 60 سے 90 روز کے اندر اس کا فیصلہ کر دیں گے۔

ہم نے رئیس الدین پراچہ سے سنوائی اور فیصلے کے دوران وکیل کے عمل دخل کا پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں ہے، لیکن ہو بھی سکتا ہے۔ تاہم شکایت کنندگان کی اکثریت خود ذاتی حیثیت میں پیش ہوتی ہے، البتہ ’بیمہ کمپنیوں‘ سے ضرور وکیل بھیج دیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی شکایت کنندہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا معاملہ زیادہ بہتر طریقے سے کوئی وکیل ہمیں بتا سکتا ہے، تو وہ وکیل کی خدمات بھی لے لیتا ہے، ورنہ 95 فی صد شکایات کنندگان خود پیش ہوتے ہیں، اور بیش تر کمپنیاں بھی اپنے افسران کے ذریعے دفاع کرتی ہیں۔

’عدالتی نظام میں کیا بہتر ہونا چاہیے؟‘ ہم نے انصاف اور قانونی معاملات سے قریب قریب ذمے داریاں نبھانے والے رئیس الدین پراچہ سے یہ سوال بھی پوچھا۔ جس پر وہ بولے کہ محتسب کا ادارہ سستا اور سہل انصاف کے سبب ہی کام یاب اور مقبول ہے۔ محتسب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ بغیر کسی خرچ اور فیس کے، بنا وکیل اور عدالتی اخراجات کے محض ایک سادے کاغذ پر شکایت لانے سے ہی آپ کی داد رسی ہو جاتی ہے۔ جب میں یہاں آیا تھا تو سالانہ 250 کیس آتے تھے، اب یہ تعداد ڈھائی ہزار ہوگئی ہے، جسے بڑھ کر کم سے کم 15 سے 10 ہزار تک پہنچنا چاہیے، لیکن لاعلمی کے سبب لوگ نہیں آپاتے، جن کو انصاف ملتا ہے، تو وہ پھر اس فورم کے بارے میں دوسروں کو بتاتے ہیں۔

رئیس الدین پراچہ نے بتایا کہ آج کل ہم تقریباً 90 فی صد شکایات پر باہمی رضا مندی سے تصفیے کر رہے ہیں، کمپنی کو غلطیاں بتا دیتے ہیں، یہ اس صورت میں ہوتا ہے کہ کمپنی کی غلطی ہو، وہ مان لیتے ہیں، 10 لاکھ کا معاملہ نو یا ساڑھے نو تک میں طے ہو جاتا ہے، کچھ معاملات میں ’بیمہ دار‘ کی بھی چُوک ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں پتا ہی نہ تھا کہ بیمے کا یہ سلسلہ ہے، جب کہ کمپنی کے لیے ضروری ہے کہ وہ کال کرتے ہیں اور پھر تفصیل بتاتے ہیں کہ کتنے پیسے کٹیں گے۔ پھر وہ اس کال کا ریکارڈ رکھتے ہیں، یہ ’کال بیک کنفرمیشن‘ کہلاتا ہے۔ اس کے بعد ہی بیمہ کیا جاتا ہے۔ بعض شکایات میں کمپنی یہ ریکارڈ لے آتی ہے، تو پھر بھی ہم کوشش کرتے ہیں کہ غلطی کے باوجود شکایت کنندہ کا نقصان کم سے کم ہو، ہم کمپنی کو ازالے پر راضی کرتے ہیں۔

وفاقی انشورنس محتسب کا طریقہ کار بتاتے ہوئے رئیس الدین پراچہ کہتے ہیں کہ ہم عدالتوں کی طرح بیانات کی ریکارڈنگ نہیں کرتے، وہاں مدعی اور استغاثہ کا بیان باقاعدہ لکھا جاتا ہے، جرح ہوتی ہے، جب کہ ہم دستاویز دیکھ کر اور بیانات سن کر فیصلے تک پہنچ جاتے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے تحریری فیصلے میں باقاعدہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ کیا بات اور کیسے ثابت ہوئی ہے۔ ہمارے فیصلوں کے خلاف عدالتوں کا راستہ بھی کھلا ہوا ہے، لیکن وہاں ہمارا فیصلہ بھی بطور حوالہ پیش کیا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات ہم خود بھی تجویز دیتے ہیں کہ اپنی شکایت انشورنس ٹریبونل لے جائیں۔

رئیس الدین پراچہ عوام الناس کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بیمے سے متعلق کسی بھی قسم کی کوئی شکایت ہو، فوری طور پر وفاقی انشورنس محتسب سے رجوع کریں، درخواست ’وفاقی انشورنس محتسب سیکریٹریٹ، دوسری منزل، پی آر سی ایس اینیکسی بلڈنگ، پلاٹ 197/5، ڈاکٹر دائود پوتہ روڈ، کراچی پر بہ ذریعہ ڈاک بھی بھیج سکتے ہیں، ای میل [email protected] اور فون نمبر 021-99207761-62 پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ہم ان کی داد رسی کی پوری کوشش کریں گے۔ n

’بیمے‘ کی رقم کے لیے دانستہ ’’نقصان‘‘ کرنے والے…
ہم نے ’بیمے‘ کی رقم کے لیے جب جان بوجھ کر اپنا ’نقصان‘ کرنے والوں سے متعلق استفسار کیا تو رئیس الدین پراچہ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے پاس بہت سی ایسی شکایات بھی آتی ہیں، جیسے ایک مرتبہ لاہور کے ایک سابق رکن صوبائی اسمبلی کی مرسڈیز گاڑی کی گم شدگی کا دعویٰ داخل کیا تھا، بیمے کی رقم نہ ملنے پر بات ہم تک پہنچی، ہمیں محسوس ہوا کہ اس میں کچھ گڑ بڑ ہے، جب گاڑی کا ’ٹریکر‘ ریکارڈ کی مدد سے اس کا مقام وغیرہ سمیت دیگر شواہد دیکھے، تو ان کا 80 لاکھ کا دعویٰ مسترد کر دیا۔ ایسے کروڑوں روپے کے کلیم (Claim) بھی مسترد ہوتے ہیں، بعض شکایات ’کلیم‘ کی مزید رقم کے لیے بھی ہوتے ہیں۔ بہت سے مواقع پر کمپنی حق بہ جانب ہوتی ہے، ایسا نہیں ہے کہ سب شکایت کنندگان ہی درست ہوتے ہیں۔

ہم نے پوچھا کہ شکایت کنندہ پر غلط بیانی ثابت ہونے پر کوئی جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے؟ تو انہوں نے بے ساختہ ہنستے ہوئے کہا کہ نہیں، جس کا دعویٰ مسترد ہو گیا، تو بس یہی ’جرمانہ‘ ہوگیا نا اس کے لیے ۔۔۔

بیمۂ زندگی کے علاوہ دیگر شکایات کا ذکر ہوا تو انہوںنے پنجاب کے ایک فصلوں کے بیمے کا کیس کا ذکر کیا، جو 2014ء میں جل گئی اور 20، 25 لاکھ روپے کا نقصان ہوگیا۔ بیمہ کمپنی نے بغیر کسی سروے کے یہ کہہ دیا کہ آگ سے جلنا ہماری پالیسی کے تحت نہیں آتا۔ جب یہ کیس ہمارے پاس آیا، تو اس میں ہم نے کہا کہ یہ کمپنی کی نااہلی ہے، کہ بغیر تحقیق کے ہی یہ تعین کرلیا۔ پھر ہم نے شرائط کا جائزہ لیا، تو اس میں ’طوفان باد وباراں‘ سے نقصان موجود تھا، اور یہ حادثہ آسمانی بجلی گرنے کے بعد آگ لگنے سے ہوا تھا، نہ کہ کسی اور وجہ سے آتش زدگی ہوئی، نتیجتاً کمپنی کو ’کلیم‘ دینا پڑا۔

رئیس الدین پراچہ بتاتے ہیں کہ حادثات کے بعد بیمہ اداروں کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ بیمہ داروں کے دعوئوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال کرے۔ جیسے گاڑی کے حادثے کی صورت میں آپ دعویٰ کریں گے، تو کمپنی پہلے شواہد اکھٹے کرے گی۔ گواہیاں لے گی اور تمام کارروائی کے بعد جب مطمئن ہوگی کہ جان بوجھ کر نقصان نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد اس کی رپورٹ ہوگی کہ واقعی نقصان ہوا ہے اور اس کا حجم کتنا ہے، اس بنیاد پر پھر اس خسارے کا ازالہ کیا جائے گا۔

کبھی شکایات کے پلندے گھر بھی لے جانا پڑتے ہیں
رئیس الدین پراچہ کے بقول وہ 27 اکتوبر 1955ء کو پیدا ہوئے، اُن کے والد تجارت سے وابستہ تھے، سات بھائی دو بہنوں میں وہ منجھلے ہیں۔ سندھ مدرسۃ الاسلام اسکول سے تعلیم حاصل کی، سندھ مسلم کالج سے گریجویشن، پھر جامعہ کراچی سے شماریات میں ایم ایس سی کیا۔ 1980-81 میں گورنمنٹ کامرس کالج، کراچی میں لیکچرر بھی رہے۔ پھر سرکاری ملازمت کا سلسلہ شروع ہوگیا، کراچی، سکھر وغیرہ سمیت مختلف جگہوں پر تعینات رہے۔

1995ء میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیِں، جو پڑھ رہے ہیں۔ فرصت ملتی ہے تو ٹی وی دیکھتے ہیں، پہلے اسکواش معمولات میں شامل تھا، جب کہ اب روزانہ دفتر سے واپسی پر ایک گھنٹے چہل قدمی ان کی زندگی کا لازمی جزو ہے۔ بعض اوقات دفتری فائلیں گھر بھی لے جانا پڑتی ہیں۔ جس میں گھر پر بھی ایک دو گھنٹے صرف ہو جاتے ہے۔ ہم نے پوچھا کہ شریک حیات شکایت نہیں کرتیں کہ یہ کیا گھر میں بھی عدالت لگا کر بیٹھ گئے ہیں؟ تو وہ بولے کہ بالکل شکایت ہوتی ہے کہ اب آپ گھر میں بھی دفتر کھول کر بیٹھ گئے ہیں، تو انہیں سمجھانا پڑتا ہے کہ یہ بہت ضروری کام ہے۔

ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بھی شکایات سنتے ہیں
رئیس الدین پراچہ 2015ء میں ’وفاقی انشورنس محتسب ‘ یہاں آئے۔ اس سے پہلے وہ کراچی میں ’وفاقی محتسب‘ کے نگراں رہے۔ اس سے قبل وہ ’اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان‘ میں قائم مقام چیئرمین، اور ’وفاقی لا اینڈ جسٹس ڈویژن‘ میں ایڈیشنل سیکریٹری رہے۔ کہتے ہیں کہ ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں لوگوں کو انصاف دینے کا سلسلہ تو 1982ء سے جاری ہے، میں نے مجسٹریٹ کے طور پر بھی کام کیا ہے۔

اب اُن کا درجہ ’ہائی کورٹ‘ کے جج کے مساوی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں آنے والی شکایات پر تمام فیصلے وہی کرتے ہیں۔ وہ کراچی میں مرکزی دفتر میں بیٹھتے ہیں، گاہے گاہے وہ ’وفاقی انشورنس محتسب ‘ کے علاقائی دفاتر پشاور، ملتان، لاہور اور اسلام آباد میں بھی جاتے ہیں، اس دورے کا تعین وہاں جمع ہونے والی شکایات کی بنیاد پر ہوتا ہے، تاہم اب اس کے ساتھ 2016ء سے وہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی دیگر شہروں کے مقدمات سننے لگے ہیں۔ اُن کے خیال میں یہ پاکستان کا پہلا ادارہ ہے، جس نے اس سہولت کو استعمال کرنا شروع کیا ہے۔





Source link