8

ایسا شخص رکن پارلیمنٹ بننے کا اہل نہیں۔۔۔ سعدیہ عباسی اور ہارون اختر کو جان کے لالے پڑ گئے، سپریم کورٹ نے فیصلہ جاری کر دیا



اسلام آباد (ویب ڈیسک) ارکان پارلیمنٹ کی دہری شہریت کے کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی تاریخ سے پہلے دوہری شہریت چھوڑنا لازمی ہے بصورت دیگر ایسا رکن پارلیمنٹ ، آئین کے آرٹیکل 63ون سی کے تحت نا اہل ہو گا ۔

یہ خبر پڑھیں : نوکریاں ہی نوکریاں :چینی سرمایہ کاری میں اضافہ ۔۔۔ سی پیک منصوبوں سے کتنے پاکستانیوں کو روز گار ملے گا؟ چینی اخبار نے نوجوانوں کو خوشخبری سنا دی
یہ خبر پڑھیں :‌ جمال تم نے نظریہ پاکستان کا دفاع کرنا ہے، جمال تم نے بلوچ قوم کی رہنمائی کرنی ہے: شہید سیراج رئیسانی کی اپنے بیٹے کو نصیحت
مسلم لیگ ن کے دو سابق سینٹرز سعدیہ عباسی اور ہارون اختر کی نا اہلی کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں لارجر بینچ کا تفصیلی فیصلہ بھی جاری کر دیا گیا۔ 32صفحات پر مبنی تفصیلی فیصلہ جسٹس عظمت سعید شیخ نے تحریر کیا ہے ، عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ سینٹر سعدیہ عباسی اور ہارون اختر کا موقف بھی تسلیم کر لیا جائے تو کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی تاریخ 8فروری2018 تھی اور اس وقت وہ دوہری شہریت کے حامل تھے ۔ آئین کے تحت ایسا شخص رکن پارلیمنٹ بننے کا اہل نہیں ۔ تفصیلی فیصلے میں چوہدری سرور اور نزہت صادق کے دوہری شہریت چھوڑنے کے دستاویزات دفتر خارجہ تصدیق کے لیے بھجوانے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ دہری شہریت والا رکن آئین کے آرٹیکل 63 ون سی کے تحت نا اہل ہو گا۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں