31

سپریم کورٹ نے میموگیٹ کیس نمٹا دیا


سپریم کورٹ نے میمو گیٹ کیس نمٹا دیا جب کہ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ حسین حقانی کے خلاف مقدمہ درج ہوچکا اب ریاست حسین حقانی کو لانا چاہتی ہے تو لے آئے لہٰذا اس سارے معاملے سے اب عدالت کا کوئی لینا دینا نہیں۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے میمو گیٹ اسکینڈل کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ کوئی بھی درخواست گزار عدالت میں موجود نہیں، قومی وطن پارٹی یا نوازشریف کوئی بھی نہیں آیا، درخواست گزار کون ہے، اگر کوئی درخواست گزار نہیں آیا تو عدالت یہاں کیوں بیٹھی ہے۔

اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے دلائل میں کہا کہ اس معاملے میں کافی حساس معاملات پوشیدہ ہیں۔

اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس میں عدالت کہاں سے آگئی؟ مسئلہ یہ تھا کہ ایک سفیر نے میمو لکھا، کیا آج یہ حکومت بھی اُس میمو سے کوئی خطرہ محسوس کررہی ہے؟ 8 سال سے یہ معاملہ زیر التوا ہے، میمو سے متعلق عدالت نے کمیشن قائم کیا، کمیشن نے اپنی سفارشات دے دیں جن پر ایف آئی آر درج ہوگئی، اب ریاست کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ ملزم کے پیچھے جائے اور جو اقدامات لے سکتی ہے وہ لے۔

معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ حسین حقانی کے خلاف مقدمہ درج ہوچکا اب ریاست حسین حقانی کو لانا چاہتی ہے تو لے آئے، اس سارے معاملے میں سپریم کورٹ کیسے اور کہاں سے آگئی، اگر کوئی سنگین غداری کا مرتکب ہوا ہے تو ریاست اس کے خلاف کارروائی کرے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جب معاملہ عدالت کے سامنے آیا تو حکومت اور سفیر پر الزام تھا، اب وہ حکومت اقتدار میں نہیں اور سفیر بھی نہیں ہے، اس لیے حکومت جو کرنا چاہتی ہے کرے، اگر ملزم تک نہیں پہنچ سکتی یا پہنچنا چاہتی ہے تو اقدمات کرے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مزید ریمارکس دیے کہ کیا مملکت خداد، آئین، افواج پاکستان، جمہوریت اتنی کمزور ہے کہ ایک میمو سے لڑ کھڑا جائے، ہمارا آئین اور جمہوریت انتہائی مضبوط ہے، الحمدللّٰہ پاکستان مضبوط ملک ہے، گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے مختصر سماعت کے بعد کہا کہ اب عدالت کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے جس کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے کیس نمٹا دیا۔

میمو گیٹ اسکینڈل کیا ہے؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے گزشتہ دورِ حکومت میں اُس وقت امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر حسین حقانی کا ایک مبینہ خط (میمو) سامنے آیا تھا۔

حسین حقانی کی جانب سے بھیجے جانے والے میمو میں مبینہ طور پر یہ کہا گیا تھا کہ ایبٹ آباد میں القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر امریکی حملے کے بعد ممکن ہے کہ پاکستان میں فوجی بغاوت ہوجائے۔

میمو گیٹ میں اُس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت کے لیے امریکا سے معاونت مانگی گئی تھی تاکہ حکومت ملٹری اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو قابو میں رکھ سکے۔

اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تھا جس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ مذکورہ میمو درست ہے اور اسے امریکا میں تعینات سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے ہی تحریر کیا تھا۔

کمیشن نے کہا تھا کہ میمو لکھنے کا مقصد امریکی حکام کو اس بات پر قائل کرنا تھا کہ پاکستان کی سول حکومت امریکا کی حامی ہے۔

اس معاملے کو اُس وقت کے اپوزیشن لیڈر نواز شریف سپریم کورٹ میں لے کر گئے تھے جس کے بعد حکومت نے حسین حقانی سے استعفیٰ لے لیا تھا اور وہ تب سے بیرون ملک مقیم ہیں۔

install suchtv android app on google app store

(function(d, s, id) { var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0]; if (d.getElementById(id)) return; js = d.createElement(s); js.id = id; js.src = "http://connect.facebook.net/en_US/sdk.js#xfbml=1&version=v2.12"; fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs); }(document, 'script', 'facebook-jssdk'));



Source link