15

جب خاتون ریسلر نے ٹرپل ایچ کو تھپڑ دے مارا


ٹرپل ایچ ڈبلیو ڈبلیو ای کے طاقتور ترین عہدیداران میں سے ایک ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین ریسلر بھی ہیں مگر کیا کوئی تصور کرسکتا ہے کہ کوئی خاتون انہیں زوردار تھپڑ دے مارے؟

مگر ایسا ہوا اور وہ بھی گزشتہ شب ڈبلیو ڈبلیو ای اسمیک ڈاﺅن میں، جب ریسلر بیکی لنچ نے ٹرپل ایچ کو تھپڑا مارا۔

یہ 2 روز کے دوران بیکی لنچ کی جانب سے ڈبلیو ڈبلیو ای چلانے والے خاندان کے کسی رکن پر حملہ تھا، اس سے قبل پیر کو منڈے نائٹ را میں بیکی لنچ نے کمپنی کی چیف برانڈ آفیسر اسٹیفنی میکموہن پر حملہ کیا تھا۔

ریسلر کی جانب سے یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب اسٹیفنی میکموہن نے بیکی لنچ کو اس لیے معطل کردیا کیونکہ وہ اپنی انجری کے علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانے کو تیار نہیں ہوئیں۔

گزشتہ شب اسمیک ڈاﺅن کے آغاز پر بیکی لنچ شیرولیٹ فلیئر کے پرومو کے دوران لوگوں کے درمیان سے نکل کر رنگ میں آئیں، جس پر اسٹیفنی کے شوہر ٹرپل ایچ بھی وہاں آگئے تاکہ دونوں خواتین ریسلرز کے درمیان تصادم کو روک سکیں۔

اس موقع پر ٹرپل ایچ نے بیکی لنچ کو کہا کہ اگر وہ اپنی معطلی ختم کرنا چاہتی ہیں تو ڈاکٹر کے پاس جائیں۔

ٹرپل ایچ کا کہنا تھا کہ بیکی لنچ اس لیے اپنے گھٹنے کی انجری کے لیے طبی امداد لینے سے گریز کررہی ہیں کیونکہ وہ ریسل مینیا میں رونڈا راﺅسی کے مدمقابل آنے کے خیال سے خوفزدہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سروائیور سیریز کے موقع پر بھی رونڈا راﺅسی سے میچ سے قبل بیکی لنچ جان بوجھ کر را میں گئیں اور خود کو زخمی کروا کر میچ سے دستبرداری اختیار کرلی اور اب بھی وہ را ویمن چیمپئن کا سامنا کرنے کے خیال سے خوفزدہ ہیں۔

بیکی لنچ نے اس موقع پر کچھ کہنے کی بجائے ٹرپل ایچ کو تھپڑا مارا اور خاموشی سے رنگ سے باہر چلی گئیں۔

ایسا لگتا ہے کہ ڈبلیو ڈبلیو ای ایک بار پھر اتھارٹی کارپوریشن بمقابلہ ریسلر کی آزمودہ حکمت عملی کو اپنا رہی ہے جس سے بیکی لنچ کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوگا جو پہلے ہی اپنے کیرئیر کے بہترین دور سے گزر رہی ہیں۔

ان کی مبینہ انجری بھی اسی اسٹوری لائن کا حصہ لگتی ہے تاکہ رونڈا راﺅسی سے ان کے میچ کا انتظار مداح زیادہ شدت سے کریں۔

بعد ازاں بیکی لنچ نے ایک ٹوئیٹ میں اسٹیفنی میکموہن پر طنز کرتے ہوئے لکھا ‘ اسٹیف، اپنے شوہر سے یہ پوچھنا مت بھولنا کہ کام پر اس کا دن کیسا گزرا’۔

install suchtv android app on google app store

(function(d, s, id) { var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0]; if (d.getElementById(id)) return; js = d.createElement(s); js.id = id; js.src = "http://connect.facebook.net/en_US/sdk.js#xfbml=1&version=v2.12"; fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs); }(document, 'script', 'facebook-jssdk'));



Source link