18

ٹائیفائیڈ کا بیکٹیریا طاقتور، دوائیں بےاثر


سندھ بھر میں پھیلنے والا ملٹی ڈرگ ریزسٹنس ٹائفائیڈ نامی بخار جس کی زد میں ہر عمر کا فرد مبتلا ہورہا ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے ٹائیفائیڈ کے کیسز میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

جبکہ طبی ماہرین کی کوشش ہے کہ مرض پر جلد قابو پالیا جائے جس کے لیے طبی ماہرین نے حکومت سے صحت کے شعبہ پر توجہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں صاف پانی فراہم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں تاکہ مرض کی بڑھتی ہوئی شرح پر بروقت قابو پالیا جاسکے۔

قومی ادارہ برائے صحت اطفال میں پیڈیاٹرک ڈاکٹر عمر سلطان کے مطابق یہ ٹائیفائیڈ بخار ایک سلمونیلا ٹائفی بیکٹیریا کے باعث ہوتا ہے۔

جو کہ ملٹی ڈرگ ریزسٹنس ٹائیفائیڈ کہلاتا ہے، ملٹی ڈرگ ریزسٹنس ٹائیفائیڈ کے مرض میں مبتلا ہونے کی بنیادی وجہ عوام کا آلودہ پانی پینا اور آلودہ کھانا کھانا ہے۔

جس کی وجہ سے بچے جلد اس کی زد میں آجاتے ہیں مرض کی علامات بتاتے ہوئے۔ڈاکٹروں نے بتایا کہ ابتدا میں پیٹ میں درد، الٹیاں اور بخار اس مرض کی علامات ہیں۔

ان علامات پر شہری فوری ڈاکٹروں سے چیک اپ کرائیں جبکہ مرض کی تشخیص بلڈ کلچر ٹیسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے جس سے فوری پتہ چل جاتا ہے کہ کون سے اینٹی بائیوٹک ادویات سے ٹائیفائیڈ کو قابو کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین طب کے مطابق اگر مریض کو درست وقت پر صحیح مقدار میں صحیح اینٹی بائیوٹک نہ دی جائے تو یہ مرض جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

جبکہ صحیح علاج وقت پر نہ ہونا ٹائیفائید کے پھیلنے کی وجوہات میں سے ایک ہے، مرض سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر بتاتے ہوئے طبی ماہرین نے کہا کہ پانی کو 5 منٹ ابال کر استعمال کرنے باہر کے مضر صحت کھانوں سے گریز کرنے اور کھانے سے پہلے ہاتھ اچھے طریقے سے دھونے سے اس ٹائفائیڈ سے باآسانی بچا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ اس نئے قسم کے ٹائیفائید میں ہر عمر کا فرد جو احتیاط نہ کرے تو مبتلا ہوسکتا ہے جبکہ مرض میں مبتلا شخص کو وقت پر صحیح دوا دینے سے7 دن میں مرض سے نجات مل سکتی ہے۔

فزیشن ڈاکٹر منیر صادق کے مطابق دوا امیپینم اور میروپینم کے ذریعے اس ٹائیفائید کا علاج کیا جاسکتا ہے جو کہ عام شہری کے لیے مہنگا علاج ہے ، اور روزانہ کی خوراک کا خرچہ ڈیڑھ سے 2 ہزار تک کا ہے۔

طبی ماہرین نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پورے پاکستان میں بھی پھیل سکتا ہے۔

install suchtv android app on google app store

(function(d, s, id) { var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0]; if (d.getElementById(id)) return; js = d.createElement(s); js.id = id; js.src = "http://connect.facebook.net/en_US/sdk.js#xfbml=1&version=v2.12"; fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs); }(document, 'script', 'facebook-jssdk'));



Source link